Tayammum Ke Faraiz Aur Tayammum Karne Ka Tareeqa in Islam
تیمم کے فرائض اور تیمم کرنے کا طریقہ
Tayammum Ke Faraiz Aur Sahih Tareeqa
01 قرآنِ مجید میں تیمم کا حکم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضو اور غسل کے احکام کے ساتھ تیمم کی اجازت بھی بیان فرمائی ہے۔ تیمم کی اجازت پانی نہ ملنے یا شرعی عذر کی صورت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی اور طہارت کی نعمت ہے۔
02 حنفی فقہ کے مطابق تیمم کے 3 فرض
نیت کرنا
دل میں پاکی حاصل کرنے اور نماز کے لیے طہارت حاصل کرنے کی نیت کریں۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے؛ زبان سے مخصوص الفاظ کہنا لازم نہیں۔
پہلا فرضپورے چہرے کا مسح
پاک مٹی یا زمین کی جنس پر ہاتھ لگانے کے بعد پورے چہرے پر مسح کریں، تاکہ چہرے کا کوئی حصہ مسح سے رہ نہ جائے۔
دوسرا فرضدونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا مسح
حنفی فقہ کے مطابق دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا فرض ہے۔ انگلیوں اور کہنیوں سمیت مطلوبہ حصے تک مسح پہنچائیں۔
تیسرا فرض03 تیمم کرنے کا طریقہ — مرحلہ وار
تیمم کی نیت کریں
دل میں یہ ارادہ کریں کہ شرعی عذر کی وجہ سے طہارت حاصل کرنے کے لیے تیمم کر رہا یا رہی ہوں۔ نیت کے لیے زبان سے کوئی خاص دعا پڑھنا ضروری نہیں۔
پاک مٹی یا زمین کی جنس پر ہاتھ لگائیں
دونوں ہاتھ پاک مٹی یا ایسی پاک چیز پر لگائیں جس سے آپ کے فقہی مسلک کے مطابق تیمم درست ہو۔ ہاتھوں پر بہت زیادہ گرد ہو تو اسے ہلکا کر لیں۔
پورے چہرے کا مسح کریں
دونوں ہاتھوں سے پورے چہرے پر مسح کریں۔ خیال رکھیں کہ مطلوبہ حصے کا کوئی مقام رہ نہ جائے۔
دوبارہ ہاتھ زمین پر لگائیں
حنفی فقہ کے معروف طریقے کے مطابق دونوں ہاتھ دوبارہ پاک مٹی یا زمین کی جنس پر لگائیں۔
دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا مسح کریں
پہلے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ اور بازو کا، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ اور بازو کا کہنیوں سمیت مسح کریں۔ انگلیوں اور کہنیوں تک مطلوبہ حصہ اچھی طرح مسح میں شامل کریں۔
04 کن حالات میں تیمم جائز ہے؟
پانی دستیاب نہ ہو
پانی تلاش کرنے کے باوجود نہ ملے، یا حالات کے مطابق پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو، تو شرعی شرائط کے مطابق تیمم کیا جا سکتا ہے۔
پانی استعمال کرنے سے بیماری کا اندیشہ ہو
اگر پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے، صحت یابی میں تاخیر یا قابلِ اعتبار نقصان کا اندیشہ ہو تو شرعی شرائط کے مطابق تیمم کی اجازت ہو سکتی ہے۔
پانی کی شدید ضرورت ہو
اگر موجود پانی پینے یا جان بچانے جیسی ضروری حاجت کے لیے درکار ہو تو متعلقہ شرعی شرائط کے مطابق تیمم کیا جا سکتا ہے۔
پانی استعمال کرنا ممکن نہ ہو
اگر پانی تک رسائی ممکن نہ ہو یا حقیقی عذر کی وجہ سے اسے استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو صورتِ حال کے مطابق تیمم کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
05 تیمم کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟
وضو توڑنے والی چیزیں
جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، وہ عام طور پر وضو کے بدلے کیے گئے تیمم کو بھی توڑ دیتی ہیں۔ ان میں بعض جسمانی اخراجات اور دیگر معروف نواقضِ وضو شامل ہیں۔
پانی دستیاب ہو جانا
پانی نہ ملنے کی وجہ سے کیے گئے تیمم کے بعد پانی دستیاب ہو جائے اور اسے استعمال کرنا ممکن ہو تو تیمم کی رخصت ختم ہو سکتی ہے۔ اس کا اطلاق وقت اور صورتِ حال کے مطابق سمجھیں۔
شرعی عذر ختم ہو جانا
اگر تیمم بیماری یا پانی استعمال کرنے سے نقصان کے اندیشے کی وجہ سے کیا گیا تھا تو عذر ختم ہونے پر پانی سے طہارت حاصل کرنا لازم ہو سکتا ہے۔
06 قرآن و حدیث کے مستند حوالے
قرآنِ مجید: سورۃ المائدہ، آیت 6 — وضو، غسل اور تیمم کے بنیادی احکام۔
قرآنِ مجید، سورۃ المائدہ 5:6 پڑھیں
صحیح بخاری: حدیث 338 — حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ ﷺ کا تیمم کا طریقہ سکھانا۔
حنفی فقہ کی رہنمائی: دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ — تیمم کا طریقہ اور اس کی شرائط۔
🌙 خلاصہ
تیمم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی اور طہارت کا شرعی طریقہ ہے۔ اس کی اجازت مخصوص عذر کی صورت میں ہے۔ درست نیت کریں، پاک مٹی یا زمین کی جنس استعمال کریں، اور اپنے فقہی مسلک کے مطابق تیمم کے فرائض اور طریقے کا خیال رکھیں۔
Share Tayamum Kay Faraiz Aur Tareeqa
Learn about the obligatory acts of Tayamum and how to perform it. Share this Islamic guide with your family and friends.
